تبدیلی مذہب کا مجوزہ بل ۔۔ حقائق صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ہ,Change of Religion
تبدیلی مذہب کا مجوزہ بل ۔۔ حقائق
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی
ہندو مذہب ایسا مذہب ہے جس میں کروڑ سے بھی زیادہ خدا ہیں۔ ذات پات کی تقسیم کی وجہ سے ہندو مذہب میں چھوٹی ذات کے ہندووں کا جینا دوبھر ہے۔ شودر دلت کی مثالیں سب کے سامنے ہیں۔ میڈیا میں اچانک شور اُٹھا کہ سندھ کے علاقے گھوٹکی سے مبینہ طور پر دو ہندو لڑکیاں اغواء ہوگئی ہیں۔ لڑکیوں کے لواحقین کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ اغواء ہونے والی لڑکیوں کو زبردستی اسلام قبول کروایا جائے گا۔ اس شور پر وزیراعظم نے بھی فوری نوٹس لیا اور متعدد گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں تاہم معاملہ عدالت پہنچ چکا ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں کہ ہندو لڑکیوں کے فرار کو اغواء کا نام دیا گیا ہو۔ اِن سے قبل بھی بہت سی ہندو لڑکیاں گھروں سے بھاگ کر آئیں، اسلام قبول کیا اور مسلمان لڑکوں سے شادیاں کیں۔ اب مسلمان ہونے والی روینا نے اپنا نام آسیہ اور رینا نے شازیہ رکھ لیا ہے۔ روینا کا نکاح صفدر جبکہ رینا کا برکت سے ہو چکا ہے۔دونوں لڑکیوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وہ بغیر کسی دباؤ کے مسلمان ہوئی ہیں اور انہوں نے مرضی سے شادی کی ہے۔ دونوں لڑکیاں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئیں۔ دونوں بہنوں کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہوں نے مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور اپنی پسند سے ہی شادی ہے، اب انہیں جان کا خطرہ ہے، تحفظ فراہم کیا جائے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی جس میں دونوں نو مسلم بہنیں عدالت میں اپنے وکلاء کے ہمراہ پیش ہوئیں۔ اس دوران جسٹس صاحب نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو روسٹرم پر طلب کیا۔ فاضل جج نے ریمارکس جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے، جس سے پاکستان کا تشخص جڑا ہے۔ نبی پاکﷺ کے فتح مکہ اور خطبہ حجۃ الوداع پر دو خطاب ہیں اور دونوں خطاب اقلیتوں سے متعلق قانون و آئین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ یہ ملک کے امیج کا معاملہ ہے، لڑکیوں کو ڈپٹی کمشنر کے حوالے کر رہے ہیں، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو گارڈین مقرر کر رہے ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو شیلٹر ہوم یا دیگر جگہوں پر رکھا جا سکتا ہے اور ایس پی لیول کی افسر بچیوں کی حفاظت کیلیے تعینات کی جائے۔ یہ لڑکیاں کیوں بھاگیں؟ حقائق کیا ہیں؟ اور میڈیا اسے کیوں اچھال رہا ہے؟ یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہیں، جن کے جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ان دونوں بہنوں کا تعلق ہندوؤں کی انتہائی نچلی ذات بھگیواڑ سے ہے۔ ہندوؤں میں غربت بہت زیادہ ہے۔ دوسرا وہاں کے امیر ہندو اپنی ہی برداری کے غریب ہندوؤں کے ساتھ جو سلوک روا رکھتے ہیں وہ تشویشناک ہے۔ ہندوؤں میں کزن میرج نہیں ہوتی، اور بھاری جہیز کے بغیر بھی کوئی رشتہ نہیں لیتا۔ اس لیے غریب گھرانوں کی لڑکیاں اچھی زندگی کے خواب آنکھوں میں سجائے یہ راستہ اختیار کرتی ہیں۔ مذہب تبدیل کر کے انہیں عزت بھی مل جاتی ہے اور دولت بھی جبکہ ایک خاندان چھوڑنے کے بدلے پورے ملک میں انہیں احترام دے کر اپنوں کا پیار دیا جاتا ہے؛ جس سے ان کا اسلام کی جانب راغب ہونا ایک فطری امر ہے۔
جہاں تک یہ سوال ہے کہ صرف لڑکیاں ہی اسلام کیوں قبول کرتی ہیں، لڑکے کیوں نہیں؟ تو یہ صرف میڈیا کا پروپیگنڈا ہے۔ لڑکیوں کی نسبت لڑکے زیادہ اسلام قبول کرتے ہیں اور بعض اوقات تو خاندان کے خاندان اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ مگر ہمارا میڈیا انہیں نمایاں نہیں کرتا، کیوں کہ میڈیا میں این جی اوز کا اثر و رسوخ بھی ہے اور این جی اوز کو ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت ہی ایسے ایشوز اٹھانے ہوتے ہیں۔
پاکستان میں کسی مسلمان لڑکی کے ساتھ جو ظلم مرضی ہوجائے، میڈیا اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا، حتیٰ ایک لائن کی خبر بھی نہیں لگائی جاتی جبکہ کسی ہندو، عیسائی یا قادیانی لڑکی کی بات آجائے تو زمین و آسمان کے قلابے ملادیئے جاتے ہیں اور ایسا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کرکے رکھ دیا جاتا ہے سوال یہ کہ لڑکیاں کیوں بھاگیں؟ ظاہر ہے غربت کی زندگی میں پس رہی تھیں اور، مقامی صحافیوں کے بقول، اونچی ذات کے ہندو انہیں تنگ بھی کرتے تھے، مگر ان لڑکیوں نے وہاں رُسوا ہونے کے بجائے عزت کی زندگی کو ترجیح دی اور اسلام قبول کرلیا۔ ریاست کو اس حوالے سے اس موم بتی مافیا کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ حقائق کیا ہیں۔حقائق کی روشنی میں فیصلے کرنا عدالت کا کام ہے، این جی اوز مافیا کا نہیں۔ لہذا انہیں لگام دی جانی چاہیے۔ این جی اوز کے حکام کو سوچنا چاہیے کہ وہ بلاوجہ اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ پہلے لڑکیوں کا مؤقف سن لیتے۔پاکستان میں کسی بھی جگہ پر جبری مذہب تبدیلی کا کوئی معاملہ نہیں ہوتا۔ یہ محض این جی اوز کا پروپیگنڈا ہے۔ وہ کوئی ایک مثال بھی پیش کرنے سے قاصر ہیں جنہیں جبری مذہب تبدیل کرنے کے لیے کہا گیا ہو۔
آج تک کسی ایک نے بھی یہ شکایت نہیں کی کہ اسے مذہب کی تبدیلی کیلیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ بلکہ مسلمان دیگر مذاہب کے لوگوں کو اپنے مسلمان بھائیوں کی نسبت زیادہ احترام دیتے ہیں۔ این جی اوز کے اس کردار میں ہمارا انگریزی میڈیا پیش پیش ہے۔ انگریزی میڈیا ڈھونڈ رہا ہوتا ہے کہ کوئی خبر ایسی ملے جس میں قادیانیوں، ہندوؤں یا عیسائیوں کو ہراساں کیا گیا ہے۔ جبکہ اردو میڈیا کا کردار اس حوالے سے کسی حد تک اطمینان بخش اور ذمہ دارانہ ہے۔اِس حوالے سے واضح پالیسی بنانی چاہیے جس میں وطن کی حرمت اور امیج کو خراب کرنے والوں کا بھی محاسبہ کیا جا سکے۔ ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے ایسے لوگوں کو سخت سزائیں دی جایءں کیونکہ سب سے پہلے وطن کی ساکھ اہم ہوتی ہے۔سندھ میں ہندو لڑکیوں کے قبول اسلام کی حقیقت کیا ہے،کیا یہ سب کچھ جبر کے تحت ہو رہا ہے؟ ہمارے سماج کا ایک بڑا المیہ پولرائزیشن ہے۔ جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے ہم اپنی اپنی عصبیتوں کے مطابق ایک پوزیشن لے لیتے ہیں اور اس کے بعد ہماری فکری صلاحیتیں اس عصبیت کے حق میں دلائل تلاش کرنے میں برباد ہو جاتی ہیں۔سماجی اور معاشی پہلو بھی کارفرما ہو سکتے ہیں اور دل کے بھی۔رنکل کماری کا کیس دیکھ لیجیے۔اس پر کتنا شور مچا تھا۔لیکن رنکل کماری نے ماتحت عدالت میں بیان دیا کہ اس نے محبت کی شادی کی اور مرضی سے مسلمان ہوئی، اسے کسی نے اغواء نہیں کیا۔ پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آ پہنچا۔ جسٹس افتخار چودھری، جسٹس عارف خلجی اور اور جسٹس طارق پرویز اس کیس کو سن رہے تھے۔ پھر وہی ہوا۔ رنکل کماری نے سپریم کورٹ میں کہا اسے کسی نے اغواء نہیں کیا، وہ مرضی سے مسلمان ہوئی اور اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ رویتا میگھوار کا مقدمہ دیکھ لیجیے۔ اس مقدمے میں بھی جب بات ہائی کورٹ تک پہنچی تو سندھ ہائی کورٹ بنچ حیدر آباد میں اس خاتون نے بھی یہی کہا کہ اسے کسی نے اغواء نہیں کیا بلکہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔عدالت کے حکم پر جب اس لڑکی کو دارالامان بھیجا گیا تو وہاں اس کی ماں بھی اسے ملنے آئی۔اس نے بھی یقیناًاسے قائل کرنے کی کوشش کی ہو گی لیکن اس کا موقف وہی رہا۔سوال اٹھا ہے کہ نو عمر لڑکیاں ہی کیوں مسلمان ہوتی ہیں۔ یہ واقعاتی طور پر درست بات نہیں۔امر واقع یہ ہے کہ ہندو لڑکے بھی مسلمان ہوتے ہیں اور ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ مسلمان ہونے کے بعد ان لڑکوں کی شادیاں بھی مسلمان گھرانے میں ہوئیں۔مذہب کی تبدیلی کا رجحان اگر بڑے بوڑھوں کی نسبت نوجوانوں میں زیادہ ہے تو اس کے بہت ساری سماجی اور معاشی عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کا مطالعہ کیے بغیر اسے جبر کا عنوان دینا ایک غیر منطقی رویہ ہو گا۔ یہ پہلو بھی مد نظر رکھا جانا چاہیے کہ ایسی شادیوں کے بعد دلہن کے ساتھ مسلمان گھرانوں میں کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔اگر یہ شادیاں جبر سے کی جائیں تو احترام کا تعلق وجود میں نہیں آ سکتا۔رنکل کماری کے مقدمے اور اس کی جزئیات سے واقف جانتے ہیں کہ شادی کے بعد اسے جو عزت دی گئی ایک مسلمان لڑکی سندھ کے دیہی معاشرے میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔بھرچونڈی شریف کے مزار میں کسی مسلمان عورت کو داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ لیکن رنکل کماری جب مسلمان ہوئی تو اس نے مزار کے اندر جانے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ بھر چونڈی شریف کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کوئی عورت اندر گئی۔لوگ حیران ہوئے تو متولی نے لوگوں کو سمجھایا کہ فریال بی بی نو مسلم خاتون ہے اور اس وقت یہ ہمارے لیے سیدوں سے بھی زیادہ قابل احترام ہے۔ہم یہاں بیٹھ کر اندازہ نہیں کر سکتے لیکن مقامی روایات سے آگہی رکھنے والے جانتے ہیں یہ ایک غیر معمولی احترام تھا۔ جنہیں اغواء کیا جاتا ہے انہیں یہ عزت نہیں دی جاتی۔ یہ شادیاں اگر جبر اور اغواء کا نتیجہ ہوں تو توہین، تذلیل اور ظلم ایسی شادیوں کا منطقی نتیجہ ہونا چاہیے۔یہ محض ہوس کی جذبات میں کی گئی شادیاں ہوں تو لازم ہے مختصر دورانیے کے بعد معاملہ طلاق تک پہنچ جائے۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ہر ماہ پچیس ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنایا جاتا ہے۔ کیا ہیومن رائٹس کمیشن ہماری رہنمائی فرمائے گا ان پچیس میں سے کتنی واپس بھاگ آتی ہیں؟اگر یہ زبردستی تھی تو کبھی تو اس لڑکی کو بھاگ جانے کا موقع ملا ہی ہو گا۔ کیا وجہ ہے کہ طلاق کا کوئی واقعہ بھی سامنے نہیں آیا۔ مثالی صورت حال یہی ہوتی ہے کہ لڑکیاں باپ اور ماں کی دعاؤں کے سائے میں گھر سے رخصت ہوں لیکن جب ایسا نہ ہو سکے تو پھر قانون بہر حال لڑکی کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ شادی کر لے۔ یہ حق مسلمان لڑکی استعمال کرے تو لبرل حضرات اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ ہندو لڑکی استعمال کرے تو اس کا ساتھ نہیں دیتے۔ بھرچونڈی شریف کا معاملہ بھی سمجھ لیجیے۔ یہ ایک قدیم درگاہ ہے اور باقی درگاہوں سے مختلف۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھی، جو پہلے ایک سکھ تھے، اسی درگاہ پر آ کر مسلمان ہوئے تھے۔اس نسبت سے غیر مسلموں کے قبول اسلام کے معاملے میں یہ لوگ بہت متحرک اور حساس رہتے ہیں۔جبر اور ظلم ہوا ہو تو ظالم کو نشان عبرت بنا دینا چاہیے۔ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ اقلیتوں پر اسلامی ریاست میں ظلم ہوا تو روز قیامت ان کا مقدمہ آقا ﷺ خود لڑیں گے۔ اقلیتوں کا تحفظ ہماری مذہبی ذمہ داری بھی ہے،اخلاقی بھی اور آئینی بھی۔ نیوزی لینڈ کے سماج کے رویوں کے بعد ہم پر یہ ایک قرض بھی ہے۔ لیکن محض اپنے سماج کو لعن طعن شروع کر دینا بھی ایک قابل تحسین عمل نہیں۔ توازن ہی بہترین راستہ ہوتا ہے۔
غیر مسلم کے مسلم ہونے کے حوالے سے اسلام کا حکم کیا ہے۔حضور نبی اکرم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر پوری نسل انسانی کو عزت، جان اور مال کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں (مقرر کی گئی) ہے۔یہاں تک کہ تم اپنے رب سے ملو گے۔‘‘(بخاری شریف)لہٰذا کسی بھی انسان کو نا حق قتل کرنا،اس کا مال لوٹنا اور اس کی عزت پر حملہ کرنا یا اس کی تذلیل کرنا دوسروں پر حرام ہے۔غیر مسلم شہری کے قاتل پر جنت حرام ہے:حضرت ابو بکرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم نے ارشاد فرمایا:’’جو مسلمان کسی غیر مسلم شہری (معاہد) کو نا حق قتل کرے گا اللہ تعالیٰ اُس پر جنت حرام فرما دے گا۔‘‘(نسائی شریف)حدیث میں معاہد کا لفظ استعمال کیا گیا جس سے مراد ایسے غیر مسلم شہری ہیں جو معاہدے کے تحت اسلامی ریاست کے باسی ہوں یا ایسے گروہ اور قوم کے افراد ہیں جنہوں نے اسلامی ریاست کے ساتھ معاہدہ امن کیا ہو۔ اسی طرح جدید دور میں کسی بھی مسلم ریاست کے شہری جو اُس ریاست کے قانون کی پابندی کرتے ہوں اور آئین کو مانتے ہوں معاہد کے زمرے میں آئیں گے۔ جیسے پاکستان کی غیر مسلم اقلتیں جو آئین پاکستان کے تحت با قاعدہ شہری اور رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔ پاکستان کے آئین و قانون کو پاکستان کی مسلم اکثریت کی طرح تسلیم کرتے ہیں یہ سب معاہد ہیں۔پاکستان کے وقت سے ہی اس مملکت کے شہریوں کی طرح تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے وقت سے ہی اس مملکت کے شہری تھے اور ہیں۔اس لئے جدید تناظر میں معاہد کا ترجمہ ہم نے غیر مسلم شہری کیا ہے۔ (فیض القدیرللمناوی)حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نے فرمایا:جس نے کسی غیر مسلم شہری (معاہد) کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گاحالانکہ جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک محسوس ہوتی ہے۔‘‘(صحیح بخاری)گویا کسی غیر مسلم کا نا حق قتل کرنے والا جنت کے قریب بھی نہیں جا سکے گا بلکہ اسے جنت سے چالیس برس کی مسافت سے بھی دور رکھا جائے گا۔ فیض الباری میں اس حدیث کی تشرح اس طرح بیان ہوئی ہے کہ:’’آپ کا فرمان ہے۔ جس نے کسی غیر مسلم شہری کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا۔ اے مخاطب!حدیث کا لب لباب تجھے قتلِ مسلم کے گناہ کی سنگینی بتا رہا ہے کہ اس کی قباحت کفر تک پہنچا دیتی ہے جو جہنم میں دخول کا باعث بنتا ہے جبکہ غیر مسلم شہری کو قتل کرنا بھی کوئی معمولی گناہ نہیں ہے۔اس طرح اس کا قاتل بھی جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا۔ (جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔)‘‘
حسن سلوک سے پیش آئے۔
حضور نبی اکرم کے مندرجہ بالا ارشادہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’(اس عمل سے)سند جاری ہو گئی کہ سفارت کار کو قتل نہ کیا جائے۔‘‘(امام احمد بن حنبل، نسائی شریف)گویا حضور نبی اکرم کے اس جملے نے سفارت کاروں کے احترام کا بین الاقوامی قانون وضع فرما دیا۔اس حکم سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ تمام عملہ جو کسی Embassyمیں سفارت کاری پر تعینات ہو اِسی حسن سلوک کا حق دار ہے اور اس کا قتل بھی از روئے حدیث حرام ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کے شورش زدہ علاقوں میں غیر ملکی سفارت کاروں اور انجینئرز کے اغوا اور قتل کے متعدد واقعات رُونما ہو چکے ہیں جن کی ذمہ داری دہشت گرد قبول کرتے رہے ہیں۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والے حضور نبی اکرم کی ان تعلیمات سے صریحاً انحراف برتنے کے باوجود خود کو ’’مجاہدین اسلام‘‘ سمجھتے ہیں۔ایک غیر مسلم کے ظلم کا بدلہ دوسروں سے لینے کی ممانعت:قرآن و حدیث کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔جس نے ظلم کیا حسبِ دستور بدلہ اور سزا کا وہی مستحق ہے،اس کے بدلے میں کوئی دوسرا نہیں۔اس کے جرم کی سزا اس کے اہل و عیال،دوستوں یا اس کی قوم کے دیگر افراد کو نہیں دی جا سکتی۔ ارشادِ ربانی ہے:’’اور ہر شخص جو بھی (گناہ) کرتا ہے (اس کا وبال) اسی پر ہوتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں ان (باتوں کی حقیقت سے آگاہ فرما دے گا جن میں اختلاف کیا کرتے تھے۔)‘‘(الانعام)اسلام اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ پر امن شہریوں کو دوسرے ظالم افراد کے ظلم کے عوض سزا دے حضور اکرم کا ارشاد گرامی ہے:’’کسی امن پسند غیر مسلم شہری کو دوسرے غیر مسلم افراد کے ظلم کے عوض سزا نہیں دی جائے گی۔‘‘(ابو یوسف الخراج)غیر مسلم شہریوں کا مال لوٹنے کی ممانعت:اسلام نے دوسروں کا مال لوٹنا بھی حرام قرار دیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اور تم ایک دوسرے کے مال آپس میں نا حق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو (بطورِرشوت‘‘حاکموں تک پہنچایا کرو کہ یوں لوگوں کے مال کا کچھ حصہ تم(بھی) ناجائز طریقے سے کھا سکو حالانکہ تمہارے علم میں ہو (کہ یہ گناہ ہے)۔‘‘(البقرہ)غیر مسلم شہریوں کی جانوں کی طرح ان کے اموال کی حفاظت بھی اسلامی ریاست پر لازم ہے۔ہر دور میں جمیع مسلمانوں کا اس پر اجماع رہا ہے۔حضرت امام ابن سعد اور امام ابو یوسف نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ حضور نبی اکرم کے معاہدے کی یہ شق نقل کی ہے:’’اللہ اور اللہ کے رسول محمد اہل نجران اور ان کے حلیفوں کے لئے ان کے مالوں،ان کی جانوں،ان کی زمینوں،ان کے دین،ان کے غیر موجود و موجود افراد،ان کے خاندان کے افراد،ان کی عبادت گاہوں اور جو کچھ بھی ان کے ہاتھوں میں ہے،تھوڑا یا زیادہ،ہر شے کی حفاظت کے ضامن اور ذمہ دار ہیں۔‘‘(ابو یوسف کتاب الخراج)حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شام کے گورنر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو جو فرمان لکھا تھا اس میں منجملہ دیگر احکام کے یہ بھی درج تھا:’’(تم بحیثیت گورنر شام)مسلمانوں کو ان غیر مسلم شہریوں پر ظلم کرنے،انہیں ضرر پہنچانے اور ناجائز طریقہ سے ان کا مال کھانے سے سختی کے ساتھ منع کرو۔‘‘(ابو یوسف کتاب الخراج)حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ’’غیر مسلم شہری ٹیکس اس لئے ادا کرتے ہیں کہ ان کے خون ہمارے خون کی طرح اور ان کے مال ہمارے اموال کے برابر محفوظ ہو جائیں۔‘‘(ابن قدامہ،المغنی)
اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کا اس قدر اہتمام کیا گیا ہے کہ ان کے اموال کی حفاظت اتنی ہی ضروری ہے جتنی مسلمانوں کے اموال کی حتیٰ کہ اگر کوئی مسلمان ان کی شراب یا خنزیر کو تلف کر دے تو اس پر بھی جرمانہ لازم آئے گا۔فقہ حنفی کی مشہور کتاب ’’الدر المختار‘‘ میں ہے:’’غیر مسلم شہری کی شراب اور اس کے خنزیر کو تلف کرنے کی صورت میں مسلمان اس کی قیمت بطور تاوان ادا کریگا۔‘‘چہ جائیکہ ان کے گھروں کو جلا دیا جائے۔ایسے عمل سے اسلام کی بد نامی ہوتی ہے۔غیر مسلم شہری کا مال چرانے والے پر بھی اسلامی حد کا نفاذ ہو گا:اسلام نے مال کی چوری کو حرام قرار دیا ہے اور ا س پر نہایت سزا مقرر کی ہے۔حضور نبی اکرم کے زمانے میں قریش کی ایک مخزومی عورت نے چوری کی تو آپ نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا۔ لوگوں نے آپ سے اس کی سفارش کرنا چاہی تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اُس پر بھی حد جاری کی جاتی۔(بخاری شریف)امام نووی شرح صحیح مسلم میں لکھتے ہیں:’’یقیناًغیر مسلم شہری،معاہد اور مرتد کا مال بھی اس اعتبار سے مسلمان کے مال ہی کی طرح ہے۔‘‘(الدرالمختار)
حضور سرورِ کائنات نے غیر مسلم شہریوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر مسلم شہریوں کو ظلم و زیادتی سے تحفظ کی ضمانت دے۔ اگر اسلامی ریاست میں کسی غیر مسلم شہری پر ظلم ہو اور ریاست اسے انصاف نہ دلا سکے تو آپ نے قیامت کے روز ایسے مظلوم لوگوں کا وکیل بن کر انہیں ان کا حق دلوانے کا اعلان فرمایا ہے۔حضور اکرم نے ارشاد فرمایا:’’خبردار! جس نے کسی غیر مسلم شہری پر ظلم کیا یا اُس کا حق مارا یا اس پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالا یا اُس کی دلی رضا مندی کے بغیر کوئی چیز اُس سے چھین لی تو قیامت کے دن میں اُس کی طرف سے جھگڑا کرو ں گا۔‘‘(ابو داود)فرمانِ رسالت مآب کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان معاشرہ غیر مسلم شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے۔
ایک وکیل صاحب کا بیان من و عن پیش ہے " کوئی ایسا سرٹیفیکیٹ موجود نہیں ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میرا مذہب کونسا ہے۔ایک اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا میرے پاس آیا وہ اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتے تھے لیکن رکاوٹ یہ تھی کہ لڑکی شادی شدہ تھی اس لیئے وہ مجھ سے مشورہ لینے آئے تھے میں نے حسب معمول مشورہ دیا کہ پہلی شادی کی تنسیخ کیلئے کیس داخل کریں جس کے بعد ہی دوسری شادی ممکن ہوگی ان کا تعلق کرسچن کمیونٹی سے تھا میں نے لڑکی کی جانب سے تنسیخ نکاح کی پٹیشن داخل کردی کچھ عرصے تک وہ لڑکا اور لڑکی کورٹ میں آتے رہے ان کو تنسیخ نکاح کا فیصلہ نہ ملا پھر ایک دن وہ لوگ اچانک ہی غائب ہوگئے ایک دن ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں نے شادی کرلی ہے میں نے کہا کم بختو! بے شرمو! تم لوگوں نے نکاح کے اوپر نکاح کرلیا ہے جانتے ہو کہ یہ بھی ایک جرم ہے وہ مسکرائے اور کہا وکیل صاحب آپ اچھے وکیل نہیں ہیں آپ بلاوجہ ہی ہم دونوں کا وقت خراب کیا بلاوجہ کورٹ کے دھکے کھانے پڑے ہیں جبکہ ایک وکیل نے صرف پانچ منٹ میں میرا مسئلہ حل کردیامیں نے حیرت سے کہا کیا مطلب انہوں نے بتایا کہ ایک وکیل نے کہا تم لوگ اسلام قبول کرلو تو لڑکی کا پرانا نکاح خود ہی ختم ہوجائے گا اور تم اس سے فوراً نکاح کرلینا پھر وہ ہمیں ایک مفتی کے پاس لے گیا اس نے اسلام قبول کروایا ہمیں قبول اسلام کی سند دی اور ہم دونوں نے فوری طور پر نکاح کرلیا۔میں نے کہا کیا اب تم دونوں اسلام قبول کرکے مسلمان ہوگئے ہو انہوں نے جواب دیا نہیں انہوں نے صرف قبول اسلام کی سند شادی کرنے کیلئے لی ہے وہ گھر پڑی ہے ہم پہلے بھی کرسچن تھے آج بھی کرسچن ہیں لیکن اگر اسلام قبول نہ کرتے تو ہماری شادی ہوناہی ناممکن تھی ہم نے اسلام تو صرف قبول اسلام کی سند حاصل کرنے کیلئے قبول کیا ہے۔قبول اسلام کی سند کسی بھی غیر مسلم شادی شدہ عورت کو یہ سہولت دیتی ہے کہ وہ اپنا پرانا نکاح تنسیخ کیئے بغیر صرف قبول اسلام کی سند حاصل کرکے نیا نکاح کرلے یہی وجہ ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد اس سہولت سے ناجائز طورپر فائدہ اٹھاتی ہے۔اسی سہولت کا نام جبری مذہب کی تبدیلی ہے "
تبدیلی مذہب کے بل پر شدید اعتراض ہے اور حیرت ہے کہ ممبران سندھ اسمبلی نے کس طرح یہ قانون سازی کرلی ہے کسی بھی انسان کو مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے یہ تاثر بھی غلط ہے کہ لوگ مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہوتے ہیں بہت سے لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ پاکستان میں بہت سے مسلمان بھی مرتد ہوکر عیسائی مذہب بھی قبول کرلیتے ہیں بہت سے چرچ بھی عیسائی مذہب قبول کرنے کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں نادرا سے اس ریکارڈ کی تصدیق سرکاری ذرائع سے بھی کی جاسکتی ہے۔
وہ لوگ اسلام قبول کرنے کے بعد کیوں مرتد ہوجاتے ہیں یہ ایک الگ بحث ہے یہ بہت حسا س مسئلہ ہے کسی شخص کا اسلام قبول کرنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد کچھ عرصے بعد مرتد ہوکر مذہب تبدیل کرنا ایک انٹرنیشنل مسئلہ ہے اور اس کی بنیاد پر منظم گروہ ترقی یافتہ ممالک میں پاکستانیوں کو سیاسی پناہ بھی دلواتے ہیں پاکستان میں قبول اسلام کی سند اور عیسائی مذہب اختیار کرنے کی سند کی بنیادپر بہت بڑے کھیل کھیلے جاتے ہیں مذہب ایک بہت نفع بخش کاروبار ہے اور اس کی بنیاد پر بہت سے ڈرامے رچائے جاتے ہیں بہت سے مسلمان بھی جعلی طورپر اسلام قبول کرتے ہیں جبکہ بہت سے غیر مسلم بھی جعلی طورپر جبری اسلام قبول کرتے ہیں آج کل منظم جرائم پیشہ گروہ کورٹس کے آس پاس آفسز بنا کر قبول اسلام کی اسناد فروخت کرتے ہیں اگر شکار اچھا ہو تو اس قسم کے سرٹیفیکیٹ لاکھوں روپے میں فروخت ہوجاتے ہیں لیکن نارمل حالات میں یہ سند دس ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے خود ساختہ قبول اسلام کے کچھ عرصے بعد جبری اسلام قبول کرنے والا جعلی مرتد ہوجاتا ہے جس کے بعد ایک اور کارندہ کسی مدرسے میں جاتا ہے اور ایک شرعی مسئلہ پوچھتا ہے جس پر شرعی فتوٰی آجاتا ہے کہ مرتد کی سزا یہ ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے اب دیکھ لیں این جی اوز کے پاس کتنا فٹ کیس آگیا ایک جعلی مسلمان جو مرتد ہوچکا ہے اس کی جان کو شدید خطرہ ہے شدت پسند اس کو قتل کرنا چاہتے ہیں ایک نہایت ہی منظم گروہ لاکھوں روپے لیکر اس طریقے سے اس قسم کے کیسز میں سیاسی پناہ دلواتے ہیں اور یہ جعلی مرتد والا کیس تو اے کٹیگری میں شمار ہوتا ہے اس لیئے فوری طور پر اس کی سیاسی پناہ کی درخواست قبول کرلی جاتی ہے اس کاروبار میں مذہب سے منسلک ہائی پروفائل اہم شخصیات ملوث ہیں بعض اوقات تو جعلی قسم کے خود ساختہ مفتی تو کسی گمنام مدرسے کی جانب سے جعلی مرتد کے قتل کا فتوٰی اس کے نام کے ساتھ ہی جاری کردیتے ہیں.جو لوگ اسلام قبول کرلیتے ہیں ان میں سے بہت کم لوگ ہی قبول اسلام کی سند لیکر نادرا کے پاس جاتے ہیں اور اپنے کوائف تبدیل کرواتے ہیں کیونکہ ان کے مذہب کی تبدیلی کا تعلق زیادہ تر واقعات میں صرف اسلام قبول کرنے کی سند سے ہوتا ہے اور قبول اسلام کی سند سے ان کے بہت سے مفادات وابستہ ہوتے ہیں
کیا اس حوالے سے قانون سازی ممکن ہوگی کہ کوئی بھی شادی شدہ عورت جو اسلام قبول کرلیتی ہے تو کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ اس کا ماضی کا نکاح بذریعہ عدالت تنسیخ کیا جائے؟ علماء اکرام کو اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنا چاہیئے حالانکہ تبدیلی مذہب سے کسی بھی مذہب کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تبدیلی مذہب کے حوالے سے صوبہ سندھ میں زیادہ تر شور شرابہ ہندو برادری کی جانب سے مچایا جاتا ہے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے نچلی ذات کے ہندو اکثر اسلام قبول کرتے ہی رہتے ہیں یہ ایک روٹین کی بات ہے ان میں سے اکثر اسلام کے دائرے میں بھی داخل ہوجاتے ہیں کیونکہ اسلام میں ذات پات کا کوئی تصور نہیں ہے لیکن ہنگامہ اس وقت برپا ہوجاتا ہے جب کسی اونچی ذات سے تعلق رکھنے والی لڑکی اسلام قبول کرکے اپنی پسند سے شادی کرلیتی ہے نچلی ذات سے تعلق رکھنے والی ایک ہزار لڑکیاں بھی اسلام قبول کرکے شادی کرلیں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا فرق صرف اونچی ذات کی لڑکی کی جانب سے اسلام قبول کرنے سے پڑتا ہے میرے پاس ماضی میں جبری مذہب کی تبدیلی کے کئی کیسز رہے ہیں زیادہ تر وہ نچلی ذات سے تعلق رکھتے تھے جب وہ کیسز عدالت میں آئے تو کسی ادارے نے ان کی کوئی مدد نہیں کی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے وکلاء نے بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی لیکن جب جبری مذہب کی تبدیلی کے کیسز میں عدالت کی مداخلت پر لڑکیوں کو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو وہ تصدیق کرتی ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ان کو کسی نے بھی اغواء نہیں کیا اور وہ اپنی زندگی سے خوش ہیں اس طرح عدالتوں نے بھی اقلیتی برادری کو مطمئین کرنے کیلئے ہر ممکن راستہ اختیار کیا لیکن ہر بار یہی ہوا کہ کم ازکم میرے سامنے جبری مذہبی تبدیلی کا کوئی کیس ثابت نہیں ہوا لیکن اس کے باوجو د بہت سے لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے بلاوجہ انکار ہی کرتے رہتے ہیں۔
ہمارے ہاں تو یہ رواج بن چکا ہے کہ لوگ دوسرے ممالک کا ویزہ لینے کے لیے اِس طرح کا ھنونا کھیل کھیلتے ہیں کہ جی میں اب مسلمان نہیں ہون میں نے مذیب تدبیل کرلیا ہے اِس لیے میری جان کو خطارہ ہے مجھے پناہ دی جائے۔ یہ با قاعدہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکاہے۔مذہب کی تبدیلی ایک بہت بڑا کاروبار ہے اس مسئلے سے بے شمار مسائل جنم لے رہے ہیں جب تک ہم اس کاروبار کو سمجھیں گے نہیں اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا حکومت کو چاہیئے کہ قبول اسلام کی اسنادپر پابندی عائد کرے اسلام کبھی کسی کے سرٹیفیکیٹ کا محتاج نہیں رہا مذہب کی تبدیلی کیلئے یہ طریقہ کار طے کیا جاسکتا ہے کہ نومسلم عدالت میں کیس دائر کرے کہ اس نے اسلام قبول کرلیا ہے اس لیئے اس کو عدالت قبول اسلام کا سرٹیفیکیٹ صرف اس نیت سے جاری کرسکتی ہے کہ وہ اپنے تعلیمی دستاویزات پر اپنا نیا اسلامی نام تحریر کروالے اور شناختی کارڈ وغیرہ پر اپنے کوائف تبدیل کروالے اور اگر لڑکی شادی شدہ ہوتو اس کا نکاح بھی تنسیخ کردیا جائے.ویسے سال کے تین سوپینسٹھ دن اور چوبیس گھنٹے میں ہر غیر مسلم کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر صرف کلمہ توحید پڑھ کر اور ختم نبوت کا اقرار کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہوسکتا ہے وہ بخوشی اسلام قبول کرے اس کو کسی سرٹیفیکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان میں کروڑوں مسلمانوں کے پاس اس قسم کا کوئی سرٹیفیکیٹ موجود نہیں جس سے ان کا اسلام قبول کرنا یا مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہو۔تبدیلی مذہب کے حوالے سے صرف یہ قانون سازی کی جاسکتی ہے کہ تبدیلی مذہب کے سرٹفیکیٹس جاری کرنے کا اختیار مدارس اور چرچ کو نہیں ہونا چاہیئے اگر کوئی ہندو عیسائی مذہب بھی قبول کرتا ہے تو یہ اختیار سیشن جج کو دے دیا جائے کہ صرف ایک سماعت کے ذریعے اس کو تعلیمی کوائف اور شناختی کارڈ وغیرہ میں نام کی تبدیلی اور پرانے نکاح کی موجودگی میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پرانے نکاح کو تنسیخ کرکے اگر شادی شدہ عورت اسلام قبول کرتی ہے تو اس کو نیا نکاح کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
سندھ اسمبلی نے اقلیتوں کے حقوق کے نام پر تبدیلی مذہب کا ایک قانون منظور کیا ہے، جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
۱)۔۔۔ کوئی بھی شخص 18 سال سے کم عمر میں مذہب تبدیل نہیں کر سکے گا، اگر اس نے اسلام قبول کر بھی لیا، تو پھر بھی وہ نو مسلم 18 سال تک غیر مسلم ہی تصور کیا جائے گا۔
۲)۔۔۔ 18 سال کی عمر میں مذہب تبدیل کرنے والے شخص کو 21 روز تک حفاظتی تحویل میں رکھا جائے گا، اُسے مذہب کے تقابلی مطالعہ کا موقع دیا جائے گا تاکہ وہ اپنا مذہب تبدیل نہ کرے اور اُسے تسلی وتشفی ہو جائے، اس کے باوجود اگر تبدیلء مذہب چاہتا ہے تو قانوناً اسے مذہبِ نو میں رجسٹرڈ کیا جائے گا۔
۳)۔۔۔18سال سے زائد عمر کا کوئی شخص چاہے مرد ہو یا عورت، اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرنے کی اجازت نہ ہو گی۔
۴)۔۔۔کسی نو مسلم کا نکاح پڑھانے والے یا کسی نو مسلم کو پناہ دینے والے شخص کو کم ازکم پانچ سال یا عمر قید کی سزا دی جائے گی اور ان کی ضمانت بھی منظور نہ ہو گی۔
۵)۔۔۔ اسلام قبول کرنے والے شخص کے بارے میں میڈیا کوریج پر پابندی ہو گی۔
۶)۔۔۔نو مسلموں کے کیس کی سماعت اِن کیمرا اور مقدمات خصوصی کورٹ میں ہوں گے، جو 90 روز کے اندر فیصلہ سنانے کی پابند ہو گی۔
۷)۔۔۔ مذکورہ بالا قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو تین سال سے عمر قید تک سزا دی جا سکے گی۔
مذکورہ بالا قانون کو سندھ اسمبلی نے منظور کر لیا ہے جبکہ اسی سے ملتا جلتا ایک بل اقلیتی رکن نے مورخہ 3دسمبر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں پیش کیا، جسے کمیٹی نے کثرت رائے کے ساتھ اس لئے مسترد کر دیا کہ زبردستی تبدیلء مذہب کا کوئی کیس رجسٹرڈ نہیں ہوا۔ مزید برآں یہ 18 ویں ترمیم کے بعدیہ صوبائی معاملہ ہے، اگر اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے نہ صرف یہ کہ اس کی مذمت کریں گے بلکہ کمیٹی از خود نوٹس بھی لے گی۔
سندھ اسمبلی نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے مذہب کی زبردستی تبدیلی کو جرم قرار دینے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس کے تحت مجرم کو 5 سال اور اس کے سہولت کار کو 3 سال قید کی سزا ہو گی۔ سندھ کے ارکان اسمبلی نے اس حوالے سے بل متفقہ طور پر منظور کیا۔ بل میں کہا گیا ہے کہ یہ بات لازمی ہوگئی ہے کہ زبردستی مذہب کی تبدیلی کو جرم قرار دیا جائے۔ واضح رہے کہ خصوصی طور پر ہندوؤں کے مسلمان ہونے کا سندھ میں ایشو رہا ہے۔ 2014ء میں ایک گروپ جو مذہبی تشدد کے خلاف مہم چلا رہا ہے اس نے امریکی کانگرس کو بتایا تھا کہ عمومی طور پر نوجوان لڑکیوں کو اغوا کرکے مذہب تبدیل کرانے کے بعد ان سے شادی کی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال سینکڑوں لوگوں کا مذہب تبدیل کرایا جاتا ہے۔ نئے قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکے لڑکیوں کے مذہب کی زبردستی تبدیلی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ زبردستی مذہب تبدیل کرانے کے جرم کے لئے کم از کم سزا 5 سال رکھی گئی ہے۔ سہولت کار کو 3 سال قید کی سزا ہو گی۔ قانون کا بل پیش والے مسلم لیگ فنکشنل کے رکن صوبائی اسمبلی نندکمارگوکلانی کا کہنا ہے کہ یہ ایک تاریخی قانون ہے جو ہم نے بنایا اور اسے منظور کر لیا۔ اس سے اب ہندو خود کو محفوظ تصور کرینگے۔بالغ شخص کو مذہب تبدیل کرنے کے 21 دن تک سیف ہاؤس میں رکھا جائیگا جہاں مذہب سے متعلق مواد دیا جائیگا، متعلقہ شخص کو مذہب تبدیل کرنے سے متعلق چند روز سوچنے کا موقع دیا جائے گا۔ مسلم لیگ فنکشنل کے اقلیتی رکن نند کمار گوکلانی نے جبری مذہب کی تبدیلی کے خلاف بل پیش کیا جو صوبائی وزیر اقلیتی امور ڈاکٹر کھٹو مل نے پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اقلیتوں کو جبری مذہب کی تبدیلی کے لیے مجبور کیا جاتا رہا ہے نوعمر لڑکیوں کو ورغلا کر مذہب تبدیل کرنے کے معاملات عام ہیں۔ اس بل کے مطابق اگر کوئی کمسن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے مذہب تبدیل کرلیا ہے تو اس کی دعوے کو قبول نہیں کیا جائے گا تاہم اس کمسن کے والدین یا کفیل اپنے خاندان کے سمیت مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ مذہب کی جبری تبدیلی مختلف حوالوں سے ہوگی اس کو صرف جبری شادی یا جبری مشقت تک محدود نہیں سمجھا جائے گا۔ بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی کا جبری مذہب تبدیل کرنے کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو مجرم کو پانچ سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جائے گی اور یہ جرمانہ متاثرہ فریق کو دیا جائے گا۔ جبری مذہب کی تبدیلی میں سہولت کاری کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے، جس کے مطابق اگر کوئی شخص جس کو معلوم ہے کہ ایک فریق یا دونوں فریقین کا مذہب جبری تبدیل کیا گیا ہے اور وہ شادی میں معاونت یا سہولت فراہم کرتا ہے تو وہ بھی سزا کا مستحق ہوگا اس کو تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جائے گی اس کے علاوہ شادی کا انتظام کرنے، مولوی اور دیگر سہولتوں کاروں کو بھی شریک جرم تصور کیا جائے گا۔ زبردستی مذہب تبدیل کرنے اور شادی کرنے والا مجرم قرار پائے گا۔ بل میں بتایا گیا ہے کہ زبردستی مذہب کی تبدیلی کے مقدمے میں سندھ چائلڈ میریج ایکٹ، پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 498، 375، 376، 365 اور 361 کو بھی شامل رکھا جائے گا اس کے علاوہ جبری مشقت کے خاتمے کے قانون کی شقیں بھی اس قانون میں شامل ہوں گی۔ بل میں شکایت کا نظام بھی واضح کیا گیا ہے۔ جس کے تحت متاثر فرد یا باخبر شخص عدالت میں درخواست دے سکتا ہے، عدالت یہ درخواست موصول ہونے کے سات روز کے اندر تاریخ مقرر کرے گی ملزم کو طلب کرکے جواب طلبی کرے گی اور یہ مقدمہ 90 روز کے اندر نمٹایا جائے گا۔ جبری مذہب کی شکایت عدالت کے علاوہ پولیس کے پاس بھی درج کی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی پولیس افسر جس کو یہ شکایت موصول ہوئی ہے کہ کسی فرد کا جبری مذہب تبدیل کیا گیا ہے تو وہ اس شخص کو تحویل میں لینے کے 24 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرے گا۔ نابالغ فرد کی صورت میں حتمی فیصلہ عدالت کرے گی کہ وہ صغیر ہے یا بالغ۔ عدالت مطمئن ہونے کے بعد اس کو والدین کے سپرد کرے گی اس وقت تک اس فرد کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے کے حوالے کیا جائے گا۔ بل میں کہا گیا ہے کہ اگر مذہب کسی بالغ شخص سے شادی کی وجہ سے ہوا ہے تو اس متاثر فرد کو عدالتی کے فیصلے تک شیلٹر ہوم میں رکھا جائے گا۔ متاثرہ شخص رضاکارانہ طور پر بیان دے کر اپنے والدین، سرپرست، شوہر یا شادی کے خواہشمند شخص سے ملاقات کرسکتا ہے۔ لیکن یہ ملاقات چائلڈ پروٹکشن محکمے کے حکام یا عدالت کی موجودگی میں ہوگی۔ کسی بالغ شخص کی مذہب تبدیل کرنے کے بارے میں فیصلیسے قبل عدالت فریق کو 21 روز کی مہلت دے گی تاکہ وہ فیصلے پر نظر ثانی کرسکے اور اس کو مذہب کے مطالعے کا بھی موقعہ فراہم کیا جائے گا۔ اگر کسی ملزم پر یہ الزام ثابت ہوجاتا ہے کہ شادی کے ذریعے مذہب تبدیل کیا گیا ہے تو فوری طلاق ہوجائے گی۔ اس قانون پر عملدرآمد اور نگرانی کے لیے حکومت خاص کمیشن یا کمیٹی قائم کرے گی، جس کے لیے اضافی بجٹ، انفراسٹریکچر، وسائل اور عملہ فراہم کیے جائیں گے جبکہ تک قانون کے تحت مجاز عدالتیں اور کمیشن کا نوٹیفیشکن جاری نہیں کیا جاتا اس وقت تک خصوصی عدالتیں جبری مذہب کی تبدیلی کے مقدمات کی سماعت کرنے کی پابند ہوں گی۔ رکن صوبائی اسمبلی نند کمار گوکلانی نے تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ بل اقلیتوں کے تحفط کی ضمانت ہے۔ سندھ اسمبلی نے اقلیتوں کے قانونی حقوق کے تحفظ سے متعلق بل کی منظوری دیدی۔
یہ بات جاننا ضروری ہے وہ کیا اسباب ومحرکات ہیں، جن کی بنیاد پر آئین پاکستان اور شریعتِ اسلامیہ کا خون کیا گیا، نئی رِیت ڈال کر چودہ صدیوں کی تاریخ میں اس قانون کے ذریعے ایک سیاہ باب کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اور پاکستان جیسے دیگر ترقی پذیر ممالک اپنی کمزور داخلہ وخارجہ پالیسوں، غیر ملکی احتیاج، اقتصادی زبوں حالی اور مرعوب ذہنیت کی وجہ سے اسلام دشمن عالمی قوتوں کے دباؤ میں نہ یہ کہ صرف اپنے مذہب، ثقافت، معاشرت، اخلاق کا خون کر رہے ہیں بلکہ اپنے ملکوں کے امن، اقتصادیات اور آئین، دستور کو بھی داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی آقاؤں کی خوشنودی اور مفادات کے حصول کے لئے ہمارے حکمران حقائق سے آنکھیں موندھ کر دینی وعوامی اُمنگوں کو روندتے ہوئے ’’جی حضوری‘‘ میں لگے رہتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد یہ سلسلہ پہلے سے کہیں زیادہ ہو گیا ہے۔
نائن الیون کے بعد اسلام دشمنی کا مخفی عنصر نہ صرف نمایاں ہوا بلکہ عفریت بن کر دینا پہ چڑھ دوڑا۔ اسلام اور قرآنی تعلیمات کا استہزاء، احکامِ اسلام کی تضحیک، اسلامی اقدار کی بزور وزَر پامالی، اسلامی ممالک میں خانہ جنگی، پرامن ملکوں میں دہشت گردی، مذہبی طبقہ پر یلغار، مدارس کے خلاف پروپیگنڈا، دینی جماعتوں کے اثر ونفوذ کو روکنا، اسلامی ثقافت کے خاتمہ کی تدابیر، فحاشی عریانی کا فروغ، این جی اوز کے ذریعہ ترکِ اسلام اور اِرتدار کی مہم، گستاخانہ خاکے، فلمیں، گستاخوں کی حوصلہ افزائیاں، اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے آنکھیں دکھا کر اسلام کے خلاف قانون سازی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔
ماضی قریب میں عوامی تعلیمی اداروں کے نصابِ تعلیم سے فروغِ اسلام اور حب الوطنی پیدا کرنے والے مضامین ودروس کو مرحلہ وار نکال دینے کے بعد عملاً اسلامیات اور مطالعہ پاکستان سے مضامین کو ناقابل التفات ٹھہرا دیا گیا۔ نتیجتاً نسلِ نو نہ اسلام پسند رہے اور نہ ہی وطن دوست۔ امریکی اداروں کی رپورٹ کے مطابق تعلیمی سلسلہ میں مذہبی رجحانات روکنے کے لئے کافی اقدامات اُٹھائے جا چکے ہیں اور مزید برآں اقدامات کی تیاریاں جاری ہیں۔ ان اقدامات کے بعد اسلام کی عظمت، حقانیت اور صداقت کا نسلِ نو کے ذہنوں میں پیدا ہونے والا تأثر ختم کر دیا جائے گا۔
محمد بن قاسم، محمود غزنوی جیسے لوگوں کی مدح سرائی کو نسلِ نو کے لئے مضرقرار دیا گیا ہے۔ اس جیسے سلسلہ کو روکا جائے گا۔ پنجاب حکومت نے گرلز مڈل سکولز کا خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے طلباء وطالبات کے مڈل لیول کے مشترکہ سکول رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ سابقہ خادمِ پنجاب اس سے قبل آنکھ جھپکنے کی مدت میں تحفظِ خواتین بل منظور کروا کر ملک وملت کو حیران کر چکے ہیں، اس بل کے مضمرات واثرات ہم تفصیل سے تحریر کر چکے ہیں۔
مذکورہ بالا پس منظر میں سندھ حکومت نے اپنے آقاؤں کو خوشنودی اور پنجاب حکومت سے سبقت لیتے ہوئے تبدیلی مذہب کا قانون منظور کیا ہے۔ تبدیلی مذہب کا قانون حقیقی معنوں میں انسدادِ اسلام کا قانون ہے۔ انسدادِ مذہب کا قانون باب الاسلام سندھ سے منظور کروا کر باقی صوبوں کو بھی اس جانب مائل کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان خصوصاً سندھ میں کوئی بھی مسلمان، شاید مذہب تبدیل نہ کرے اور نہ ہی بقول قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی آج تک جبری تبدیلی مذہب کا کوئی کیس ملک میں ریکارڈ ہوا، سوال یہ ہے کہ اس بل کی منظوری کی کیا ضرورت پیش آئی؟
صاحبِ عقل ودانش جانتے ہیں کہ پاکستان مسلم آبادی پر مشتمل ملک ہے۔ اسلام اس کا سرکاری مذہب اور اسلامیہ اس کے نام کا حصہ ہے۔ اسلام اس کے دستور وآئین کے ماتھے کا جھومر اور اس کی پہچان ہے۔ یہ ملک اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا اور دو قومی نظریہ کو اس کی اساس بنایا گیا۔ ظاہر ہے کہ بل کا پس منظر غیر مسلموں کو اسلام سے روکنا اور اسلام میں داخلہ کو مسدود یا مشکل بنانا ہے۔ راہِ اسلام سے انسانیت کو روکنا قرآن کریم کی نظر میں بدترین جرم ہے۔ ذیل میں اسلام سے روکنے کے متعلق چند آیاتِ قرآنیہ پیش کی جا رہی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ راہِ اسلام سے دوسروں کو منع کرنا کافرانہ اور منافقانہ رَوَش ہے:
۱)۔۔۔ قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَہَا عِوَجاً وَأَنتُمْ شُہَدَاء وَمَا اللّہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُون۔(سورہ آل عمران: ۹۹)
’’کہہ دو: ’’اے اہل کتاب! اللہ کے راستے میں ٹیڑھ پیدا کرنے کی کوشش کر کے ایک مومن کے لئے اس میں کیوں رُکاوٹ ڈالتے ہو جبکہ تم خود حقیقتِ حال کے گواہ ہو؟ جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔‘‘
۲)۔۔۔ الَّذِیْنَ یَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ وَیَبْغُونَہَا عِوَجاً وَہُم بِالآخِرَۃِ کَافِرُون۔(سورۃ الاعراف: ۵۴)
’’جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے تھے اور اُس میں ٹیڑھ نکالنا چاہتے تھے اور جو آخرت کا بالکل انکار کیا کرتے تھے۔‘‘
۳)۔۔۔ وَلاَ تَقْعُدُواْ بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ مَنْ آمَنَ بِہِ وَتَبْغُونَہَا عِوَجاً وَاذْکُرُواْ إِذْ کُنتُمْ قَلِیْلاً فَکَثَّرَکُمْ وَانظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْن۔(سورۃ الاعراف: ۶۸)
’’اور ایسا نہ کیا کرو کہ راستوں پر بیٹھ کر لوگوں کو دھمکیاں دو، اور جو لوگ اللہ پر ایمان لائے ہیں، ان کو اللہ کے راستے سے روکو، اور اس میں ٹیڑھ پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ اور وہ وقت یاد کرو جب تم کم تھے، پھر اللہ نے تمہیں زیادہ کر دیا، اور یہ بھی دیکھو کہ فساد مچانے والوں کا انجام کیسا ہوا ہے۔‘‘
۴)۔۔۔ إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّواْ عَن سَبِیْلِ اللّہِ فَسَیُنفِقُونَہَا ثُمَّ تَکُونُ عَلَیْْہِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُونَ وَالَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِلَی جَہَنَّمَ یُحْشَرُونَ۔(سورۃ الانفال: ۶۳)
’’جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اپنے مال اس کام کے لئے خرچ کر رہے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکیں۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ یہ لوگ خرچ تو کریں گے، مگر پھر یہ سب کچھ ان کے لئے حسرت کا سبب بن جائے گا، اور آخر کار یہ مغلوب ہو جائیں گے۔ اور (آخرت میں) ان کافر لوگوں کو جہنم کی طرف اکٹھا کر کے لایا جائے گا۔‘‘
۵)۔۔۔ وَلاَ تَکُونُواْ کَالَّذِیْنَ خَرَجُواْ مِن دِیَارِہِم بَطَراً وَرِءَاء النَّاسِ وَیَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ وَاللّہُ بِمَا یَعْمَلُونَ مُحِیْطٌ۔(سورۃ الانفال: ۷۴)
’’اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو اپنے گھروں سے اَکڑتے ہوئے، اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے تھے، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روک رہے تھے۔ اور اللہ نے لوگوں کے سارے اعمال کو (اپنے علم کے) احاطہ میں لیا ہوا ہے۔‘‘
۶)۔۔۔الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّونَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا عَلَی الآخِرَۃِ وَیَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ وَیَبْغُونَہَا عِوَجاً أُوْلَءِکَ فِیْ ضَلاَلٍ بَعِیْدٍ۔(سورہ ابراہیم:۳)
’’وہ لوگ جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے پر آنے سے روکتے ہیں، اور اُس میں ٹیڑھ تلاش کرتے رہتے ہیں! وہ پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔‘‘
اس نئے منظور شدہ قانون کی وجہ سے جتنے بھی نوجوان اسلام سے دور رہیں گے، اس کا وبال کس پر ہو گا؟ حکمران ذرا اپنے گریبان پر جھانک کر سوچیں کہ وہ روزِ محشر اللہ اور اس کے رسول سے آنکھیں ملا سکیں گے؟ اگر غیر مسلموں کا ہاتھ حکمرانوں کے گریبانوں تک پہنچا اور حق تعالیٰ کے دربار میں ان غیر مسلموں نے اپنے آپ کو اسلام سے دور رکھنے کا ذمہ دار ان حکمرانوں کو قرار دیا، تو انجام کیا ہو گا؟
قارئین کرام! بچے عموماً 2ا سال سے 15سال جبکہ بچیاں9سال سے 13 سال کی عمر تک بالغ ہو جاتی ہیں۔ یہ عمر شعور وفہم کی عمر ہے۔ یہ بچے اگر مطالعہ وعلم کی بنیاد پر اپنے بالغ ہونے کے بعد18 سال سے کم عمر میں اسلام لانا چاہیں اور حکومت انہیں اس سے منع کرے، منع کرنے کے باوجود بھی عاقل وبالغ افراد حلقہ بگوشِ اسلام ہو جائیں، تو حکومت انہیں پابندِ سلاسل کر دے تو وہ عمر قید کے مستحق ٹھہر کر ایک اسلامی ملک میں اسلام لانے کے جرم میں زندگی بھر جیل میں پڑے رہیں، اس سے بڑی شرمناک بات کیا ہو گی؟
اگر والدین اسلام قبول کر لیں اور وہ چاہیں کہ ان کی پوری فیملی شرفِ اسلام سے مشرف ہو اور ان کی چھوٹی، بڑی اولاد بھی اپنے والدین کے ساتھ اسلام میں داخل ہونا چاہیں تو کیا یہ جبر نہیں کہ حکومت نومسلم ماں باپ کی اولاد کو اسلام سے روک رہی ہے!!! اس صورت میں والدین کا مذہب الگ اور بچوں کا مذہب الگ تحریر ہو گا۔ کیا یہ کم عمری میں جبر نہیں کہ بچوں کو والدین کے دین سے دور کیا جا رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایسا سائبان ہے، جس نے ہر طبقہ وعمر کے لوگوں کو اپنے اندر جگہ دی ہے، یہ ایسی خوب صورت، خوشبو دار وادی ہے، جس میں ہر ایک لطف اندوز ہوتا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے اور فطرت سے کسی کو روکنا حق تلفی کے سوا اور کیا ہے؟ کھانا، پینا، خوراک، علاج، لباس، رہائش، تعلیم سب فطرتِ انسانی میں داخل ہیں، اس میں بچے، بڑے سبھی شامل ہیں تو فطرتِ اسلامی سے روکنا کیونکر درست ہو سکتا ہے؟
مذکورہ بالا قانون کی روشنی میں تو تاریخ اسلام کے نامور، لائقِ فخر شخصیات کا اسلام سندھی قانون کے مطابق (العیاذ باللہ) معتبر نہ ہو گا۔ اصحابِ رسول ﷺ اور اہل بیتِ اطہار کی سیرت مبارکہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں بچے حلقہ بگوش اسلام ہو کر اسلام کے عظیم داعی، مبلغ، مجاہد اور سپہ سلار بنے۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بوقتِ اسلام عمر مبارک صرف 10 سال تھی۔ سیدنا معاذؓ بن غفراء اور سیدنا معاذؓ بن عمرو بچے ہی تو تھے، جنہوں نے ابوجہل فرعونِ اُمت کو جہنم رسید کیا تھا۔ سیدنا انس بن مالکؓ خادمِ رسول ﷺ کی عمر مبارک وصالِ نبوی کے وقت صرف 10 سال تھی۔ ترجمان القرآن، مایہ ناز مفسر حضرت عبداللہ بن عباسؓ بھی وصالِ نبوی کے وقت صرف 10 سال کے تھے۔ حضرت عمیر بن سعد، حضرت عمیر بن وقاص، حضرت سلمہ بن اکوع جیسے جلیل القدر صحابہ بھی قبولِ اسلام کے وقت کم عمر ہی تھے۔

Comments
Post a Comment